تاریخ 30 اکتوبر 2021 کراچی ملیر کینٹ ISSB سینٹر میں انٹر ہونے کہ لئے کھڑے پریشانی اور خوشی دونوں ہی ساتھ تھی کیوں کہ یہ ایک واحد ٹیسٹ ہے جو امید وار کو پانچ دن اپنی custody میں رکھتا ہے۔ انٹری ہوئی فون جما ہوگئے اور ISSB میں پہلا دن شروع ہوگیا کمرے دے دئے گئے اور پابندیاں لگا دی گئی جیسا کہ سموکنگ وغیرہ allow نہیں تھی سارا سسٹم فوجی تھا۔ کمروں میں سامان رکھا اور آرڈر ملا کہ سیدھے جناح ہال میں سب جمع ہوجایں جناح ہال میں گئے اور Bio-data فارم مل گئے انکو fillup کرتے کرتے رات ہوگئی اور dinner کے لئے بلایا گیا (میس) میں چاروں طرف cameras لگے ہوۓ تھے۔ کھانا وغیرہ کھایا اور نمازِ عشاء ادا کی مسجد میں جانا allow نہیں تھا تو اپنے living area میں ہی نماز پرھتے تھے۔ دل بہت گھبرایا ہوا تھا فون allow نہیں تھا تنہائی سے دم گھٹ رہا تھا سب انجان لوگ تھے پھر میری ملاقات میس میں ایک لڑکے سے ہوئی جس کا تعلق پنوعاقل سندھ سے تھا اور اسکے ساتھ ایک لڑکا طاہر جو کہ اسی کے شہر سے تھا۔ ان دونوں سے ملاقات کے بعد ہم ایک دوسرے سے کافی حد تک فری ہوگئے اور پھر breakfast lunch dinner ایک ساتھ ہی کیا کرتے تھے اور اس طرح ISSB کہ بور ماحول کو ہمنے enjoyable بنا دیا۔ ٹائم رات کے دس بجے کا تھا ایک چاچا آیا اور lights off کرنے کے بعد کہنے لگا کہ سونے کا ٹائم ہوگیا ہے آپ سب لوگ اپنے اپنے bed پر پہنچ جایں۔ ہم سب نے rule پر عمل کرتے ہوۓ کمروں کی طرف جانا شروع کردیا لیکن ہم میں سے کوئی بھی 10 بجے سونے کا عادی نہیں تھا لیکن آدھا گھنٹہ کوشش کی کہ نیند آجاۓ لیکن نہیں آئ میں ابھی سوچ ہی رہا تھا روم سے بھر جانے کیلئے اتنے میں نعمان میرے روم میں آیا اور طاہر پہلے ہی باھر موجود تھا پھر ہمنے سبسے پہلے چاچا کو جا کر دیکھا تو وہ سکوں سے سو رہا تھا پھر ہمنے نیچے مشین سے کچھ کھانے کی چیزیں لی اور نماز والے area میں بیٹھے تو اچانک چاچا کے آنے کی آواز سنائی دی تو ہم فورا وہاں سے بھاگے اور washrooms میں چھپ گئے پھر تھوڑی دیر بعد ہمنے nouman کو بھیجا کہ وہ پورا area دیکھ کے ہمیں بلالے اتنے میں nouman کی آواز آئ area is secure پھر ہم اسی جگہ بیٹھے اور 12 بجے تک باتیں کرتے رہے اور گفتگو کے دوران طاہر نے کافی مرتبہ کہا کہ یار آرام سے بول ورنہ چاچے نے پھر آجانا ہے لیکن nouman کہاں ماننے والا تھا اسنے اور تیز آواز میں کہا میں نہیں ڈرتا کسی سے اور حلانکہ چاچا کو دیکھ کر سبسے پہلے وہی غائب ہوا کرتا تھا پھر تھوڑی دیر بعد اپنے اپنے rooms کی طرف چلدیے ٹائم کوئی 12 بجے کا تھا نیند کا کوئی نام و نشان نہیں تھا لیکن بس tension یہ تھی کہ صبح ٹیسٹ دینا ہے یہ سوچتے سوچتے نا جانے کب نیند آئ پتا ہی نہیں چلا اور اچانک room کا دروازہ بجنا شرو ہوگیا اور لائٹس on ہوگئیں اٹھ کر دیکھا تو چاچا اٹھانے کے لئے آ چکا تھا گھڑی کی طرف نظر گئی تو ٹائم 5 بجے تھے اور لگ رہا تھا کہ شاید ساری رات نیند ہی نہیں آئ_ خیر fresh ہوۓ اور اچھی dressing کی اور میس کی طرف چلدئیے nouman اور tahir بھی تیار تھے ہمنے ساتھ ہی ناشتہ کیا اور پھر ضروری سامان لے کر جناح ہال کی طرف چلے گئے اور وہاں اپنی کرسی پر بیٹھ گئے جس پر پہلے دن بیٹھے تھے. psychology ٹیسٹ کا دن تھا اور تمام ٹیسٹ 1 بجے تک ختم ہو چکے تھے اور پھر معمول کے مطابق کھانا کھا کر اپنے اپنے رومز میں آرام کرنے چلے گئے۔ شام عصر کے بعد میں طاہر کے room میں گیا مینے طاہر سے نومی کا پوچھا تو اسنے کہا چل اسکے room میں چلتے ہیں ہم اسکے روم میں گئے تو وہاں نومی کے چارو طرف اسکے room-mates بیٹھے ہوۓ تھے جیسے کسی مرشد کے پاس مرید ہوں ہمنے وہاں بہت مذاق کیا اور dinner کے بعد وہی معمول کے مطابق سب سو گئے اور ہم چاچا سے چھپ کر مستی مذاق میں مشغول تھے لیکن دن با دن ہمارے ساتھ لڑکے بھی توجو لینے لگے اور اکثر آ کر بیٹھ جایا کرتے تھے۔ صبح تیسرا دن تھا GTO (Group Task Officer) Day جو کہ بہت اہم اور چوکس رہنے والا دن ہوتا ہے اس دن جسمانی اور دماغی دونو طرح کے امتحان ہوتے ہیں اور تیسرے دن کی صبح تو چاچا نے 4 بجے ہی اٹھا دیا تھا اور ناشتہ 6 بجے ہوا پھر وہی جناح ہال میں گئے اور GTOs کا انتظار کرنے لگے ایک GTO اتا اور دس بندوں کو اپنے ساتھ لے جاتا ہر GTO کے آنے پر دل کی دھڑکن تیز ہوجاتی کہ یہ کہیں میرا نام نا لیلے خیر نومی طاہر اور میں ہم تینو کو الگ الگ گروپ ملے جو کہ صرف دس لڑکوں پر مشتمل تھے پھر GTO ہمیں ایک روم میں لے گئے جسمیں 50 inches کی LED لگی ہوئی تھی۔ ہم وہاں بیٹھ گئے اور سب نے باری باری دئے گئے topic پر گروپ کو لیکچر دیا اور لیکچر کے مارکس GTO اپنی فائل میں لکھتا تھا لیکچر کے بعد لڑکے سوال پوچھتے اور پھر GTO بھی پوچھتا اسکے بعد Group Planning ہوئی جس میں ایک نقشہ دکھایا گیا اور اسکا حل نکالنا تھا۔ پورے گروپ نے مل کر بڑی مشکل سے اس کا ہل نکالا اور اسکے بعد GTO نے دس منٹ کا ٹائم دیا اور کہا کہ PT kit پہن کر واپس آؤ سب دوڑتے ہوۓ گئے اور PT Kit پہن کر واپس آ گئے پھر Group task ہوا اسکے بعد ایک اور ٹاسک ہوا پھر GTO نے کہا کہ آپ لوگوں کا انٹرویو ہونا ہے بہترین لباس پہن کر سیدھے جناح ہال میں جما ہوجایں پھر ہمنے ایسا ہی کیا اور ہال میں سب عمدہ لباس پہن کر جما ہوگئے اور سامنے بورڈ پر مختلف لائٹس کے بلب تھے ان میں سے group-H کا بلب لال تھا مطلب لال کلر کی بتی جلنے پر Group-H کا انٹرویو شرو ہونا تھا اور جیسے ہی لائٹ بند ہو کر جلتی اسکے بعد والا لڑکا انٹرویو کے لئے جاتا۔ اب میرا چوتھا نمبر تھا جب تیسرا لڑکا انٹرویو کے لئے گیا تو مینے لائٹ کو دیکھنا شرو کردیا پورے بیس منٹ لائٹ سے نظر نا ہٹائی اور جیسے ہی blink ہوئی میں فوراً deputy president کے روم کی طرف بھاگا جو کہ دوسری منزل پے تھا مینے ہلکا سا دروازہ بجایا اور نہایت ہی ادب سے اندر جانے کی اجازت لی اور Deputy President نے کہا Yes Com in اندر ایک کرسی رکھی تھی میں اسکے قریب کھڑا ہوا اور مینے سلام کیا Deputy نے جواب کے ساتھ کرسی پر بٹھنے کا کہا اور ذاتی معلومات شرو کردی اسکے بعد دو سوال ریاضی کے کیے اور سوالوں کا سلسلہ جاری رہا اور 15 سے 20 منٹ انٹرویو ہوا اسکے بعد انہو نے جانے کی اجازت دے دی۔ اس دن سب ایک دوسرے سے انٹرویو کے بارے میں پوچھتے رہے اور چوتھے دن کا انتظار شرو ہوگیا اور چوتھا دن 4 بجے شرو ہوا 7 بجے ہال میں PT-kit پہن کر جما ہوگئے اور اپنے GTO کے ساتھ باغ کی طرف پہنچ گئے جہاں بقیہ جسمانی اور دماغی امتحان ہونے تھے۔ وہاں ہمارا command ٹاسک ہوا جسمیں GTO نے سبسے پہلے پوچھا کہ کمانڈر کون بننا چاہتا ہے میرے علاوہ سب نے ہاتھ کھڑا کر لیا اور GTO نے مجھے کہا کہ آپنے ہاتھ کیوں نہیں کھڑا کیا مینے کہا سر مجھے اس ٹیسٹ کے بارے میں علم نہیں ہے اس لئے میں نے ہاتھ اٹھانا مناسب نہیں سمجھا پھر GTO نے کہا تم ہی کمانڈر بنوگے مینے کہا سر جیسے آپ کی مرضی پھر انہو میں میرا انٹرویو لیا جسمیں انہو نے کچھ دماغی سوال پوچھے اور ذاتی معلومات لی اسکے بعد GTO نے مجھے میرا ٹاسک دیا اور کہا کہ لڑکوں کو بلا کر ٹاسک شرو کردو پھر میرے بعد دوسروں کا بھی اسی طرح نمبر آیا۔ اسکے بعد obstacle کی باری آگئی جو سبسے مشکل مانا جاتا ہے کیوں کہ usmen جسمانی قوت زیادہ لگتی ہے اور تھوڑا usmen خطرہ بھی ہوتا ہے دو منٹ کے ٹائم میں کافی سارے اتار چڑھاؤ پار کرنے تھے obstacle کے بعد ہم سب کو ایک پیج دیا گیا اور کہا گیا کہ اپنے گروپ ممبرز کو مارکس دو کہ کسکی کارکردگی اچھی رہی اسکے بعد ہم روم کی طرف چل دئے اور کچھ تصاویر وغیرہ بھی کھچوای اسکے بعد پورا ایک دن وہاں گزارا اور پانچوے دن اپنے گھروں کی طرف روانہ ہوگئے۔ یہ تھا ISSB جس میں پانچ دن بغیر موبائل کے گزرے پانچ وقت ٹائم پر نماز پڑھی دن بھی بہت بڑا لگتا تھا خوب باتیں بھی ہوجاتی تھی اور نیند بھی یہ تو بس ہمارے پاس مصروف رہنے کے ذریے بہت ہیں اسلئے ہمیں دن چھوٹے لگتے ہیں۔ یہ تھی ہماری پانچ دن کی کہانی اسکو وہ لڑکا آسانی سے سمجھ سکتا ہے جو ان لمہوں سے گزر چکا ہو۔ بس اللّه تعالیٰ سب کو کامیابی نصیب کرے آمین۔
Raoarpoet.blogspot.com
(Motivational points provider)
0 Comments