پاکستان رکروٹمنٹ سسٹم۔ پاکستان کے مختلف اداروں میں گورنمنٹ نوکری کا اعلان کیا جاتا ہے اور ضرورت مند امیدوار لوگ ادارے کی پالیسی کو مد نظر رکھتے ہوئے انکی تمام ریکوائرمنٹس کو پورا کرتے ہیں لیکن پھر بھی ایک بات سمجھ سے باہر ہے کہ جب تمام ادارے پاکستان گورنمنٹ کے ہیں تو سب کا سلیکشن نظام اتنا مشکل کیوں.؟
پاکستان کا نظام حال میں بہت ناگزیر چل رہا ہے کرپشن کا منہ اتنا کھل چکا ہے کہ اسکو بھرنا یا بند کرنا ناممکن لگنے لگا ہے بلکل اسی طرح ہر ادارے میں کرپشن گریبان کھول کر کی جا رہی ہے جو کہ اسلام اور ایمان کے بلکل خلاف ہے۔ کچھ ادارے پاکستان میں ایسے بھی ہیں جن کے کبھی نوکری کے اشتہار نظر نہیں آتے نا جانے کہاں سے وہ لوگ خود ہی ویکینسی پوری کر لیتے ہیں اور کچھ ادارے تو بینک چالان ریسیو کر کے غائب ہو جاتے ہیں اور کچھ ادارے فائنل سلیکشن میں پیسے مانگ بیٹھتے ہیں مطلب یہ کہ سب کا نظام اپنا اپنا ہے جو کہ امیدواروں کی تذلیل کا باعث بنتا ہے۔
جب پاکستان کی گورنمنٹ ایک ہے تو گورنمنٹ نوکری کا سلیکشن نظام بھی تمام نوکریوں کے لئے ایک جیسا ہونا چاہئے آخر کیوں ایسا ہے کہ کسی ادارے میں تو نائب قاصد سے بھی اتنا مشکل ٹیسٹ لیا جاتا ہے جو کہ اسی گورنمنٹ کے دوسرے ادارے میں کلرک کی پوسٹ کے برابر ہوتا ہے۔
مثال کے طور پر اگر آپ کسی فورس میں نوکری کرنا چاہتے ہیں تو وہ آپکو زہنی جسمانی تعلیمی امتحانات سے گزار کر بھی سلیکشن میں شارٹ لسٹ نا ہونے کی وجہ سے ریجیکٹ کر دیتے ہیں چاہے آپکے تمام ٹیسٹ کلیئر بھی ہوں۔ اسی طرح پولیس ادارے میں آپکو ریٹ لسٹ بتائ جاتی ہے جس میں سپاہی سے اے ایس آئ تک کی نوکریاں دستیاب ہوتی ہیں۔ اور جنہو نے چالان پیڈ کئے ہوتے ہیں اور تمام ریکوائرمنٹس پوری کی ہوتی ہیں انکی جگہ پیسے دینے والے امیدوار سلیکٹ ہو جاتے ہیں۔
اب حال ہی میں پی ایس ٹی اور جے ای ایس ٹی کی نوکیوں کے لیے ٹیسٹ لیئے گئے جس میں امیدواروں کو بی پی ایس چودہ کی نوکری دینے کے لئے آفر لیٹر دئے جا چکے لیکن ایک بات زیر غور ہے کہ جب دوسرے اداروں میں جودہ گریڈ کی نوکری دی جاتی ہے تو وہ امیدوار کو نچوڑ دیتے ہیں پھر کہیں اسکو آفر لیٹر ملنے کی امید ہوتی ہے اور جہاں تک بات ہے پی ایس ٹی اور جے ای ایس ٹی کی اس نوکری میں پاکستان کے مستقبل کا فیصلہ ہورہا ہے کیونکہ استاد اگر باشعور اور اچھی تعلیم کے حامل ہونگے تو معاشرے پر اچھا اثر پڑیگا لیکن غور کرنے کی بات یہ ہے کہ اس نوکری میں صرف (ایم سی کیوز) ٹیسٹ لیا گیا اور پاس ہونے والوں کو آفر لیٹر دے دیئے گئے جبکہ سب کو معلوم ہے کہ (ایم سی کیوز) میں تکے بھی لگ جاتے ہیں۔ لیکن سلیکشن بورڈ کو چاہئے تھا کہ کم از کم ایک انٹرویو ہی لے لیتے کہ ہم جن لوگوں کو اپنے بچے پڑھانے کے لئے سلیکٹ کر رہے ہیں ان میں ٹاکنگ پاور، علم و شعور، ڈسیپلین اور علم کو دوسرے تک پہچانے کی صلاحیت ہے بھی یا نہیں بس یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے زیادہ تر بچے پرائویٹ اسکولوں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ بس دعا ہے اللہ تعالی سے کہ ہمارے ملک کا نظام صحیح ہوجائے تاکہ روز قیامت ہم بھی منہ دکھانے کے قابل ہوں کہ ہم نے اسلام کی پاسداری کی تھی اور مزید یہ کہ پاکستان زندہ آباد پاکستانی قوم اور نظام پائندآباد۔
ARpoet
0 Comments