سب سے پہلے تو شکر ہے اس ذات کا جس نے ہمیں ایک خوبصورت جسم کے ساتھ ایک دماغ دیا ہے جو کہ بہت کچھ اپنے اندر اسٹور کر لیتا ہے خواہ وہ اچھا ہو یا برا اور دوسری چیز ضمیر رہے جو کہ دل و دماغ کے کچھ بھی غلط یا صحیح چاہنے اور سوچنے پر ہمیں (مشورہ) دیتا ہے۔ اور اس کو معلوم ہوتا ہے کہ یہ غلط ہے یا صحیح اور اسی طرح وہ ہمیں اطلاع کرتا ہے مطلب فورا ایک (نوٹیفکیشن) بھیجتا ہے
فرض کریں = (ابھی آپ ایک بات بولیں کہ جھوٹ بولنا اچھی عادت ہے اور پھر جو نوٹیفکیشن آے محسوس کریں)
ایک بار یہ مشق ضرور کریں👆
ضمیر ہمیں خبردار کرتا ہے کہ یہ کام غلط ہے اور صحیح کام کرنے پر سکون میسر کرنے والا بھی زمیر ہے ۔ کیوں کہ دل کے پاس دماغ نہیں ہوتا وہ اس لئے کچھ بھی بغیر سوچے سمجھے سوال کر بیٹھتا ہے۔ پھر اس کو دماغ جج کرتا ہے کہ آیا یہ کام اسے کرنے دو یا نہیں کرنے دوں پھر دماغ ضمیر سے مخاطب ہوتا ہے پھر ضمیر جو فیصلہ کرتا ہے وہ فیصلہ دل کو سنا دیتا ہے اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ضمیر ہمیشہ اچھے کو اچھا اور برے کو برا کہتا ہے لیکن ایسا ہر شخص کے ساتھ نہیں ہوتا بعض اوقات ہم لوگ ڈائریکٹ دل کی ماننا شروع کر دیتے ہیں پھر دماغ اور ضمیر منع کرتے رہ جاتے ہیں اور انسان یہ کہہ کر انہیں خاموش کر دیتا ہے کہ نیکسٹ ٹائم آئندہ بار ایسا نہیں کروں گا اور اس طرح دماغ اور ضمیر کے نوٹیفکیشن آنا بند ہو جاتے ہیں اور انسان گناہوں میں برے کاموں میں دھنستا چلا جاتا ہے کیوں کہ وہ اپنے سافٹ ویئرز کو اپ ڈیٹ نہیں کرتا سافٹ ویئر سے مراد اپنے دماغ اور ضمیر کو۔
ہاں بالکل جس طرح موبائل کے سافٹ ویئرز کو اپ ڈیٹ نہ کیا جائے تو وہ آگے چلنا بند کر دیتے ہیں اسی طرح ہم نے اپنے دماغ اور ضمیر کو اپ ٹو ڈٹے رکھنا چاہیے تا کہ ہمیں کسی برای میں پڑنے کی ضرورت ہی نہ پڑے دماغ اور ضمیر کو اپڈیٹ کرنا کیسے ہے ۔؟
ان کی اپڈیشن مثبت سوچ اور عبادت سے ہوگی جو کہ اس دور کے لوگوں میں بہت کم پائی جاتی ہے بس جس کا جو دل کرتا ہے اس نے وہی صحیح سمجھا ہوا ہے ذرا غور کریں کہ آپ نے گزشتہ پورے ہفتے میں سوچا تھا کہ مجھے بھی موت آسکتی ہے میں بھی اس دنیا کا مسافر ہوں کیونکہ یہ بات تو واضح ہے کہ جس نے اس دنیا میں سانس لیا اس نے اس سانس کو واپس بھی کرنا ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ہم صرف موت کو بھول بیٹھے ہیں کیونکہ ہم عبرت حاصل نہیں کرتے اور نا ھی کرنا چاہتے ہیں۔ عبرت سے مراد خود کو سدھارنا نہیں چاہتے ایک قول ہے کہ تم زمین والوں پر رحم کرو آسمان والا تم پر رحم کرے گا زمین والوں پر رحم کا مطلب اپنے اردگرد کے لوگوں پر جو کہ آپ کے ساتھ تو ہیں لیکن آپ کو ان کا ذرا بھی خیال نہیں ہے انسان اس دنیا میں واحد مخلوق ہے جو یہ سمجھتی ہے کہ اگر رزق نا کمایا تو بھوکے مر جائیں کچھ جمع نا کیا تو ہماری آنے والی نسل کو گھر میسر نہیں ہوگا کیونکہ ہم انسان ہیں اور انسان کو اللّه تعالیٰ نے دماغ دیا ہے عقل اور شعور سے نوازا ہے اور انسان ہی کے لیے یہ دنیا ہے لیکن انسان اس دنیا کو بہت غلط لے بیٹھا ہے سب سے بڑی چیز یہ ہے کہ جب بھی آپ کو یہ محسوس ہونے لگے کہ اللہ تعالی نے مجھے کچھ نہیں دیا تو قبرستان جائیے اور صرف ان لوگوں کی قبروں پر غور کیجئے جو اس دنیا میں تم سے کئیں زیادہ اہمیت رکھتے تھے مثال کے طور پر کوئی ایم این اے تھا کوئی علاقے کا وڈیرہ تھا کوئی گاؤں کا غنڈہ تھا کوئی بہت بڑا رئیس تھا جو کہ انسانوں کو انسان نہیں سمجھتے تھے اور غریبوں کو تو انسان بھی نہیں سمجھتے تھے سب کی قبروں کو دیکھ کر پھر ان لوگوں کی قبر دیکھیے جو آپ جیسے تھے بلکہ آپ سے بھی زیادہ غریب اور لاچار تھے اگر ذرا بھی تمہیں اپنے اور رئیس لوگوں اور آفیسروں کی قبر میں فرق ملے تو تم نہ شکری کر سکتے ہو لیکن اللہ تعالی نے اپنے سامنے سب کو ایک جیسا رکھا ہے جیسا کہ مسجد میں حج پر قبرستان میں اور پھر محشر میں مسجد میں آپ کو کوئی نہیں کہے گا کہ آپ پیچھے کھڑے ہوں اور وہ رئیس یا آفیسر یا بڑا آدمی آگے آئے گا یہ بس دنیا کا ھی دستور ہے جو انسانوں میں اونچ اور نیچ دکھاتی ہے اللہ تعالی کے قانون میں سب برابر ہیں یہ تمام دنیا کی جہالت ہے جب کبھی دنیا سے دل بھرنے لگے اس دنیا کی جہالت سے تو ان تمام باتوں کو ایک بار ضرور پڑھ لیں پھر ذرا بھی غم محسوس نہیں ہوگا اور ذرا بھی اپنے رب سے آپ کو شکوہ نہیں رہے گا اور رہی دنیا کی بات تو ایک شعر کے ساتھ شروع کرتا ہوں کہ
نظام بدلنے تک یہ درد بھی سہنا ہے
مزدور کے بچے کو مزدور ہی رہنا ہے
تو ہماری دنیا کا یہ دستور ہے دراصل یہ دستور نہیں ایک جہالت ہے جہالت کا مطلب یہ نہیں ہے کہ جس کے پاس علم نہیں ہے وہ جاھل ہے بلکہ بڑے بڑے اہل علم آپ کو جاھل ملیں گے کیونکہ جو انسان خود کے علاوہ سب کو جاھل سمجھتا ہو حقیر سمجھتا ہو اس سے بڑی جہالت کی کیا بات ہو سکتی ہے کہ کوئی اپنی اوقات ہی بھول جائے اور انسان کی اوقات کیا ہے آپ خوب جانتے ہیں جہالت کے کئ قسم ہین علامہ اقبال رحمتہ اللہ علیہ اپنے شعر میں فرماتے ہیں کہ
تہذیب سکھاتی ہے جینے کے طریقے ہے
تعلیم سے جاہل کی جہالت نہیں جاتی
اب اکثرجو ان پڑھ لوگ ہیں خود کو جاہل سمجھتے ہیں لیکن یہ بات بالکل غلط ہے جہالت تہذیب سے ختم ہوتی ہے اور تہذیب گھر سے ملتی ہے ہمارے معاشرے میں اکثر پڑھے لکھے لوگوں کو جاھل پایا جاتا ہے جیسا کہ میں آپ لوگوں کو نشاندہی کرواتا ہوں
نمبر ایک۔ پڑھ لکھ کر خود کو پڑھا لکھا سمجھ نا مطلب غرور پیدا کر لینا بھی جہالت ہے
نمبر دو-- خود کو دوسروں سے اعلی سمجھنا جہالت-
نمبر تین۔۔ غریبوں کو انسان نہ سمجھنا جہالت
نمبر چار۔۔ خود کے مطلب کے لوگوں کے علاوہ دوسروں کو غیر معمولی سمجھنا جہالت
نمبر پانچ۔۔ اپنے جونیئرز سے کبھی صحیح لہجے میں بات نہ کرنا جہالت
نمبر چھے۔۔ دوسروں کو بلاوجہ ٹوکتے رہنا جہالت
نمبر سات۔۔ کسی کو حقارت کی نظر سے دیکھنا جہالت
نمبر آٹھ۔۔ اکڑ کر چلنا جہالت
نمبر نو۔۔ اتنا سخت بن کر رہنا کہ جہاں آپ ہوں وہاں سے سب چلے جائیں یا پھر آپ کے ہونے کو لوگ پسند نہ کرتے ہوں یا پھر آپ کا اسٹاف آپ سے تنگ ہو یہ بھی ایک جہالت ہی ہے کیونکہ گھر میں اگر نقصان دہ جانور آ جائے تو لوگ گھر سے بھاگنے کی کوشش کرتے ہیں اور اگر کسی ہجوم میں آپ آ جائیں تو وہاں سے بھی لوگ ادھر ہو جاتے ہیں
نمبر دس۔۔ اگر ایجوکیٹڈ ہونے کے باوجود بھی آپ لوگوں کو ان کے غلط نام سے بلا کر خوش ہوتے ہیں یا پھر کسی کا نام بگاڑ کر اور راض فحاش کر کےخوش ہوتے ہیں تو آپ بلاشبہ جاھل ہیں۔
اوپر والی تمام برائیاں اگر جس میں ہیں سمجھو وہ کسی جاھل سے کم نہیں کیوں کہ ہماری زندگی کا مقصد یہ نہیں ہے کہ ہم خود اچھے رہیں بلکہ مقصد یہ ہے کہ ہم اتنے اچھے ہوں کہ اگر ہم سے کوئی غلط کام ہو بھی جائے تو لوگوں کو یقین ہی نہ ہو کہ فلاح شخص ایسا کام کر سکتا ہے بلکہ وہ کہیں فلاح شخص ایسا کام کر ہی نہیں سکتا کوشش کریں میٹھا لہجہ اور نرم مزاج رکھیں خاص طور پر والدین کے ساتھ اور اس کے علاوہ تمام انسانوں یہاں تک کہ جانوروں کے ساتھ بھی۔ یقین کریں ایجوکیٹڈ بندہ وہ ہوتا ہے جو کبھی زمین پر بھی زور سے پاؤں نہیں مارتا اس لئے کہ کہیں کل کے دن یہ زمین بھی اپنا حصاب نا مانگ بیٹھے اور غور کریں اگر آپ کی زندگی میں آپ سے کوئی تنگ ہے تو اس تنگدستی کو خوشی میں بدل دیں پھر آپ اپنی خوشی میں دیکھیں کتنا اضافہ ہوتا ہے۔ اللہ تعالی نے ہم سب پر ایک دوسرے کی ذمہ داری لگائی ہے مطلب کہتے ہیں ایک عورت چار مردوں کو جہنم میں ساتھ لے کر جائے گی باپ بھائی شوہر اور بیٹے کو ایسا اللہ تعالی نے کیوں کیا ۔؟ اس لئے تاکہ ہم ایک دوسرے کو اپنی ذمہ داری سمجھیں اور ایک دوسرے کے لئے اچھے کا وسیلہ بنے مگر معاملہ الٹا ہے یہاں تو کسی کی ترقی برداشت نہیں ہوتی اللہ تعالی فرماتے ہیں تم اگر کسی کے لیے مجھ سے دعا کرو گے تو پہلے تمہارے حق میں قبول کروں گا پھر جس کے لئے تم دعا مانگ رہے تھے اس کے لئے قبول کروں گا ہمیں جو اسلام ملا تھا چودہ سو سے زائد سال پہلے آج اس کے طور طریقے ہم نے بہت پیچھے چھوڑ دیے ہیں مثال کے طور پر اگر آپ عبادت گزار ہیں تو معاشرہ آپ کو الگ ہی نظر سے دیکھتا ہے۔ پینٹ شرٹ والے کو زیادہ ترجیح دی جاتی ہے سنتی لباس والے کے مقابلے میں ۔ اگر انگلش اچھی آتی ہے تو سب آپ کے فین اگر عربی اچھی آتی ہو تو سب آپ سے دور ۔ جو لڑکی ایجوکیٹڈ ہوجائے تو پردے کو جہالت سمجھ بیٹھی ہے اور کھلی آزادی چاہتی ہے جبکہ تعلیم سے تو انسان اور پرہیزگار بنتا ہے یا تو ہمیں تعلیم دینے والے ادارے خراب ہیں یا پھر ہماری تعلیم ھی ہمیں یہ سکھاتی ہوگی آج کا مسلمان قسم سے دکھنے میں مسلمان نہیں لگتا کیونکہ ہم نے اسلام کو ایک قید سمجھ کر خود کو اس سے آزاد کروا لیا ہے جبکہ ہم نے اسلام میں خود کو قید کرنا تھا جہنم سے آزادی کے لئے ذرا غور کیجیے زندگی میں آپ کتنے بھی خوش ہو جائیں لیکن پھر بھی دل کا ایک کونہ ضرور ٹینشن میں ہو گا تو زندگی کا نام ہی ٹینشن ہے تو یہاں کیا سکون ڈھونڈنا کسی نے کیا خوب لکھا تھا کہ جہاں حضرت آدم علیہ السلام کو سزا کے لیے بھیجا تھا وہاں ہم سکون اور آسائش کے طلبگار ہیں ۔
نوٹ:-- اگر ان تمام باتوں میں ذرا سی بھی آپ کی دل آزاری ہوئی ہو تو میں آپ سے دلی طور پر معذرت خواہ ہوں۔ شکریہ
0 Comments