وہ جو دن بھر فکر میں رہتی ہے مان ھی ہوتی ہے۔
تو لڑ کے باہر سے گھر میں جب چھپ جاتا ہے۔
جو تجھکو بچاتی ہے مان ھی ہوتی ہے۔
تو سوتا ہے ساری رات سوکھے بستر پر
جو گیلے بستر پر رہتی ہے مان ھی ہوتی ہے۔
یوں تو اچھا ہے سارا زمانہ بھی لیکن۔
جو چہرہ تیرا پڑھ لیتی ہے مان ھی ہوتی ہے۔
وہ پال دیتی ہے تم سب کو مگر ہاں ایک دن۔
تم جسکو رکھ نہیں پاتے وہ مان ھی ہوتی ہے۔
تجھے پہنچا دیا اسنے تو آج آسمان پر مگر۔
تو جس کو بھول جاتا ہے وہ مان ھی ہوتی ہے۔
تیری بیوی کی بات تونے سنی اور غصّے میں۔
تونے جسکو سنائی وہ مان ھی ہوتی ہے۔
تیرے ھی گھر میں آج گھٹ گھٹ کے رہتی ہے۔
جو کسی کے گھر نا جا پاۓ وہ مان ہی ہوتی ہے۔
تو جسکے ہاتھ سے کھا کھا کر بڑا آدمی بنا۔
جو آج بھوکی رہتی ہے مان ھی ہوتی ہے۔
تونے کیا سوچ کر خود کو سمجھ لیا عالِم۔
جو پہلی درس گاہ ہوتی ہے مان ھی ہوتی ہے۔
تیری یہ شوخیاں بھی اسکے دم سے ہیں ساحر
تجھے جوان کیا جسنے وہ ماں ھی ہوتی ہے۔
ہوئی نابین وہ تو پھر بھی اسے یاد ہے تو۔
جو چہرے کو چھو کر پہچان لیتی ہے ماں ھی ہوتی ہے۔
![]() |

0 Comments