Ticker

6/recent/ticker-posts

MERI HAKOOMAT MERI MARZI

بات ذرا غور کرنے کی ہے کیونکہ دور جدید میں ماحول کا ساتھ ساتھ لوگ بھی بہت تیز اور عقلمند نظر آتے ہیں جہالت کا رخ واپس آبادی کی طرف ہوچکا ہے لیکن اس بار نوعیت ذرا تبدیل ہے کیونکہ پہلے جو باشعور لوگ تھے وہ باقاعدہ نظر آتے تھے لیکن اب نظر تو بظاہر بڑی پرسنالٹی میں آتے ہیں لیکن اندر کے حال بہت خراب ہیں۔ مضمون کا عنوان کچھ بھی ہو سمجھ مضمون کو پڑھ کر ہی آتی ہے اسی طرح آدھی بات سن کر فیصلہ لینا بھی ایک جہالت ہے۔ انسان ایک خطا کا پتلہ ہے اور جوکہ گناہ اور غلطی کئے بغیر نہیں رہ سکتا اسی لئے اللہ تعالی نے اسے خوب مہلت دی ہے اور وہ بار بار گناہ کرتا ہے اور بار بار ی نے سب انسانوں کو پیدا بھی ایک ہی ٰ معافی مانگتا ہے اور ہللا تعال طریقے سے کیا ہے اور مرنے کا طریقہ کار بھی ایک ہی رکھا تبدیلی صرف پیدائش سے موت کے درمیان کے سفر میں ہے کہ کوئ لگزری میں ہے تو تقریبا اکنامکس میں لیکن سفر سب کا طے ہو رہا ہے کوئ بزنس میں اور اور عنقریب گاڑی قبرستان نامی اسٹیشن پر اتاریگی جہاں اترتے ہی سب برابر لیکن اس سے پہلے ذرا اس سفر پر غور کرتے ہیں کہ اس سفر کے حاالت اتنے خراب کیوں ہیں۔ کیوں یہاں انسانوں کو حق نہیں حق مانگنے کا۔ کیوں یہاں کے لوگ خدا بننے کی کوشش میں ہیں۔ کیوں یہاں جسکی الٹھی اسکی بھینس ہے۔ کیوں نہیں سمجھا جاتا کہ اس دنیا پر سب کا برابر حق ہے۔ کیوں کمزور پر مضبوط کا دباؤ ہے۔ کیا سب حجتہ الوداع کو بھول گئے کہ کسی گورے کا کالے پر اور کالے کا گورے پر کوئ حق نہیں صرف دیواروں پر حجتہ الوداع کے خطبہ کو لگانا کافی نہیں اور ویسے بھی بات عمل سے ہی بنتی ہے ورنہ اچھی باتیں تو دیواروں پر بھی لکھی ہوتی ہیں۔ حضرت عمر فاروق رضی ہللا ی ٰ تعال عنہ جس نے دنیا پر حکومت کی اور آج جن کے بنائے قوانین پر نا صرف مسلمان افواج بلکہ غیر مزہب افواج بھی عمل پیرا ہیں انہوں نے سب سے پہلے انسانیت کا خیال کیا بلکہ یہ تک کہا کہ میری سیلری ایک مزدور کے برابر کرو اگر میرا گزارا ہوگیا تو ٹھیک ورنہ پہلے مزدور کی تنخواہیں بڑھاؤنگا پھر اپنی یہ تھے دنیا پر حکومت کرنے والے اور ہمارا یہ حال ہے کہ اگر چار آدمیوں پر بھی حکومت مل جائے تو میری حکومت میری مرضی کا بھوت سوار رہتا ہے۔ موالنا رومی فرماتے ہیں دنیا ایک سفر ہے جس سے انسان کو گزارا جا رہا ہے۔ اور بظاہر انسان کچھ بھی نہیں اگر وہ اس بات کو سمجھلے۔ سننے میں آتا ہے کہ اس دور میں پریشانیاں اور ٹینشن بہت ہیں اور ساتھ ہی بیماریاں بھی لیکن ذرا غور کی جائے تو زیادہ تر ٹینشن ہمیں اپنے گردونواح کے لوگوں کی وجہ سے ہے جوکہ ہماری ڈپریشن کی بیماری کا باعث بنتے ہیں یہ بیماری اکثر کسی فرد کی بدولت آپکو لگ جاتی ہے اب چاہے وہ فرد آپکا باس ہو سینئر ہو باپ ہو شہر ہو نافرمان اوالد وغیرہ لیکن کل مال کر یہ کہ جس شخص کا آپ پر حکم چلتا ہے یا آپ اسکے آگے مجبور ہیں تو یہ حال اس صورت میں ہوتا ہے۔ لیکن میں تو یہی سوچتا ہونکہ اگر ہللا ی ٰ تعال کسی کو اس قابل بنادیتا ہے کہ وہ کسی پر حکم چال سکتا ہے تو اسے بڑا سوچ سمجھ کر چلنا چاہئے کیونکہ جو زبانیں خاموش رہ جاتی ہیں وہ روز محشر زیادہ نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہیں اور دنیا تو ویسے بھی ایک سفر منزل تو کچھ اور ہی ہے۔ نوٹ :اگر کسی کی دل آزاری ہوئی یا اس آرٹیکل کی کوئ بات ناگوار گزری ہو تو رائٹر معازرت خواہ ہے

Post a Comment

0 Comments

Quotes/اقوال