Ticker

6/recent/ticker-posts

غزل

 دل دکھاؤ اتنا کہ درد ہونے لگے۔ دور چلے جاؤ اتنا کہ آنکھ رونےلگین۔

حال جیسا بھی ہو بعد میں تمہارے۔ "کچھ ایسا کر کے جاؤ کہ نفرت ہونے لگے"۔

یوں تو خود غرض تھے غضب کے۔"ساحر" نا جانے کیسے تیرے لئے رونے لگے

دیکھو کتنی تنہائ ہے میرے آس پاس۔ " آؤ بیٹھو کچھ دیر کہ دل بہلنے لگے۔

تجھسے اک التجا کی تھی اگر یاد ہوتو۔" التجا یہ تھی کہ تم بھول نا جایا کرو"۔

بس تیرے بعد بھی گزری ہے گزاری ہے اور ۔"بس تھوڑی سی اداسی ہے ساتھ آج تک"۔

آسرا تونے جو آنے کا دیا تھا اک دن۔ "دل کو تھپکیا دے رہے ہیں بس آج تک"۔

زندگی کا تو بھروسہ ہی نہیں ہے خیر اب۔" بھروسہ تو کسی پر بھی نہیں ہے آج تک"۔




Post a Comment

0 Comments

Quotes/اقوال